ابوجہ،16؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)افریقا میں تیل کی دولت سے مالا ملک نائجیریا انتخابات تو ابھی کافی دور ہیں مگر خاتون اول نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھا کر نہ صرف نائجیریا کے سیاسی اور حلقوں میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے بلکہ خاتون اول کی جانب سے اپنے شوہرپرسخت الفاظ میں تنقید اور ملکی امور میں ان کی لاپرواہی پر کمزور گرفت کے دعوے نے انہیں عالمی شہرت دے دی ہے۔نائجیریا کی خاتون اول عائشہ بخاری جسے اب تک خاموش طبع شہرت سے دور، امور خانہ داری، بچوں اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی ایک گمنام سماجی کارکن کے طور پرجانا جاتا تھا اچانک اس وقت منظرعام پرآئیں جب انہوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اپنے شوہر کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر جو کہ صدرمملکت ہیں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی حکومت میں کب کون شامل ہوا۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے نعروں کے ساتھ انتخابات جیتا تھا مگر وہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کرسکے ہیں۔ اگرانہوں نے حکومت میں وسیع تر اصلاحات نہ کیں وہ آئندہ انتخابات میں اپنے شوہرکا ساتھ نہیں دیں گی۔
عائشہ بخاری کے انٹرویو کے منظرعام پرآنے کے بعد جہاں حکومت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی وہیں صدر بھی چونک کر رہ گئے تاہم وہ جرمنی کے دورے پرتھے۔ انہوں نے جرمن چانسلرسے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی بیوی کے اعتراضات کے جواب دئے۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ کی جگہ باورچی خانہ ہے۔ حکومتی امور میں اپنے بیوی سے زیادہ بہتر جانتا ہوں۔ انہوں نے یہ باتیں مسکراتے ہوئے کہیں مگر کون جانتا ہے کہ بیوی کے تنقیدی انٹرویو کے بعد ان کے دل پر کیا گذرتی ہوگی؟صدر محمد بخاری نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ میری بیوی کا تعلق کس جماعت سے ہے مگر فی الحقیقت اس کی جگہ باورچی خانہ، لیونگ روم یا گھر میں دوسرے کمرے ہیں۔
نائیجیریا کی خاتون اول جو پچھلے سال مئی میں ایوان صدر میں داخل ہوئی تھیں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویومیں جس دبنگ انداز میں اپنے شوہرکے اقدامات اور پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ سربراہان مملکت کی بیگمات اگرچہ سیاسی معاملات میں ملوث رہتی ہیں مگر ایسا کم ہی ہوا کہ کسی بیوی نے علی الاعلان شوہر کی مخالفت کرتے ہوئے ان کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین ان کے بیان کو خطرناک قرار دے رہے ہیں۔عائشہ بخاری نے اپنے انٹرویو میں کہا تھاکہ ان کے شوہر ملکی امور پرکنٹرول کھو چکے ہیں۔ وہ انہیں حوصلہ دینا چاہتی ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ پس چلمن حکومت کسی اور کی ہو۔ مرضی سے لوگ آئیں اور مرضی کی حکومت کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ حالات اس سے بھی ابتر ہیں۔ صدر کو معلوم نہیں کہ ان کی حکومت میں کب کون شامل ہوا۔ وہ ان میں سے بیشتر کو جانتے بھی نہیں ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی کے مطابق کسی کو حکومتی عہدہ دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کی صدر محمد بخاری نے اپنے انتخاب سے قبل ملک کے تمام شعبوں میں پھیلی کرپشن کے خاتمے کا صفایا کرنے کا اعلان کیا تھا مگران کی اہلیہ نے اپنے انٹرویو میں صاف صاف بتا دیا کہ ان کے شوہر کرپشن کے ناسور کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکے ہیں۔ اگر کسی ملک کے سربراہ مملکت کی بیوی یہ کہہ رہی ہے کہ اس کے شوہر ملک پر گرفت کھو چکے ہیں تو یہ اس ملک کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ہے۔صدر محمد بخاری اپنی اہلیہ کے متنازع انٹرویو کے بعد جرمنی کے دورے پر روانہ ہوئے تو انہیں جرمنی میں صحافیوں نے گھیرے میں لے لیا۔ سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات میں ان کی بیوی کے انٹرویو کے بابت سوال شامل تھے۔ اس موقع پر صدر محمد بخاری نے کہاکہ میں تین بار صدارتی الیکشن جیتا ہوں۔ اس لیے میں اپنی بیوی سے ملکی امور کو بہتر جانتا ہوں۔
جہاں تک عائشہ بخاری کیبیان کا تعلق ہے تو وہ نائیجیرین حکومت کے لیے ایک انذار اور تنبیہ ہے۔ پہلی باریہ انکشاف ہوا ہے کہ نائیجیریا میں حکومت ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو حکومت میں شامل ہی نہیں۔ یعنی باہر سے حکومت کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔عائشہ بخاری کا کہنا ہے کہ وہ 27سال سے صدر محمد بخاری کی اہلیہ ہیں۔ اس پورے عرصے میں میرے شوہر نے بعض حکومتی عہدیداروں کو دیکھا تک نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی بات سنی۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ لوگ کہاں سے کیسے آئے۔ وہ ان کے بارے میں بالکل کچھ نہیں جانتے۔سخت غصے کے انداز میں بات کرتے ہوئے عائشہ صدیقہ نے کہا کہ اگرحکومتی عہدیداروں کو کوئی جاننے کی کوشش کرے تو وہ ٹیلی ویژن دیکھ لے۔ یہاں تو بہت سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں بھی جلد ہی بلایا جائے گا اور انہیں حکومتی عہدے دے دیئے جائیں گے۔
نائیجیریا میں حکمران خاندان کی عورتیں ماضی میں سیاست میں مداخلت تو کرتی رہی ہیں مگر 29مئی 2015ء کو منصب صدارت پر فائز ہونے والے محمد بخاری کی اہلیہ کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی پیش روؤں کی نسبت کم گو، سادہ، چپ چاپ اور معصوم خاتون ہیں جو زیادہ سے زیادہ خواتین کے حقوق کے لیے چھوٹی موٹی مہمات تو چلائیں گی مگران کا حکومتی امور میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا مگر انہوں نے اس تاثرکو غلط ثابت کیا ہے۔عائشہ بخاری نے ایک قدم آگے بڑھ کرنہ صرف یہ کہ حکومتی امورمیں اپنی مداخلت ظاہر کی ہے بلکہ اپنے شوہر کی ناکامیوں کو بھی کھلے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں صرف اسی صورت میں اپنیشوہر کی حمایت کریں گی اگر وہ ملک میں وسیع تراصلاحات نافذ کریں گے۔